ڈاکٹرز کی ہڑتال، ساہیوال کے ہسپتالوں میں مریضوں‌کو مشکلات

ساہیوال(بیورورپورٹ)ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ساہیوال سمیت پنجاب بھر میں ہڑتال، دوردراز سے آئے مریض و لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا،کے پی کے جیسا فوری قانون پاس کرکے ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ۔تفصیل کے مطابق ساہیوال،رحیم یارخان،لاہورسمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ جاری، اوپی ڈی مکمل طور پر بند تین ضلعوں کے سنگم پر واقع ڈویژنل ہیڈکوارٹرہسپتال میں دوردراز سے آئے مریضوں کا شدید مشکلات کاسامنا،چند روز قبل شیخ زید ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کو رات کے وقت ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے خاکروب کی جانب سے ہراساں کیاگیاتھا،ملزم کو موقع پر گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا،دوسری جانب میڈیا پر خبر نشر ہوتے ہی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے،وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین کو فوری انکوائری کی ہدایت کی، جس پر وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین نے 24 گھنٹوں میں انکوائری کی رپورٹ طلب کی،رپورٹ آتے ہی ایم ایس شیخ زید ہسپتال ڈاکٹر غلام ربانی اور پرنسپل شیخ زید ہسپتال ڈاکٹر مبارک علی کو فوری معطل کر کے دونوں عہدوں پر نئے ایم ایس و پرنسپل تعینات کردیے گئے،ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے جب تک کے پی کے جیسا قانون پاس نہیں کرتے ہم احتجاج جاری رکھے گے اور فوری طور پر ڈاکٹروں کے تحفظ کا قانون پاس کیا جائے دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے سوموارکے روز دو بجے تک کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ڈیڈ لائن۔ ڈاکٹرز کا کہنا اگر دو بجے تک وزیراعلیٰ پنجاب خود رحیم یارخان نا گئے اور ہمارے مطالبات نا مانے گے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں