گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد کی منظوری خوش آئند ہے: اکرام الحق

ساہیوال(ایس این این )جماعت اسلامی ساہیوال کے راہنما چوہدری اکرام الحق (ایڈووکیٹ)نے سینٹ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ تحفظ ناموس رسالتؐ پر ہم قربان ہونے کو ہر دم تیار کھڑے ہیں،یہ ہمارے ایمان کی بنیادہے۔اسلام دشمن قوتیں اپنی تمام حدود عبورکرچکی ہیں۔ہم وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تحفظ ناموس رسالتؐ کے معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کاخیر مقدم کرتے ہیں۔حضورنبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے درحقیقت دنیا میں تہذیبوں کی جنگ چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جس طرح ہولوکاسٹ پر یہودی لابی کوتکلیف ہوتی ہے تواسی طرح نبی اکرمؐ کی ذات اقدس پرکوئی نازیبازبان استعمال کرے اور خاکے بنائے یہ مسلمانوں کوکسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمان دنیا میں امن چاہتے ہیں مگر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلام کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔المیہ تو یہ ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر جہاں ایک طرف مغربی ممالک شان رسالتؐ میں گستاخی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں تووہاں دوسری طرف مسلم ممالک کی خاموشی،روایتی بے حسی اور ہٹ دھرمی لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ ہالینڈ میں نبی اکرمؐ کے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے اعلان کا نوٹس لے اوردنیا بھر میں اس قسم کی گھناؤنی حرکتوں کو روکا جائے۔تمام مذاہب کا احترام ضروری ہے بصورت دیگر دنیا میں فسادات برپاہوجائیں گے۔تحفظ ناموس رسالتؐ ہمارے ایمان کا اہم اور بنیادی جزو ہے۔انہوں نے کہاکہ غیر مسلم طاقتیں اوچھے ہتھکنڈوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو بری طرح مجروح کررہی ہیں۔وقت کاناگزیر تقاضاہے کہ امت مسلمہ یہود وہنود کی سازشوں کے خلاف متحدہوکر ان کامقابلہ کرے۔بحیثیت مسلمان آج ہمیں اتحاد ویکجہتی کی جتنی ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔چوہدری اکرام الحقنے مزیدکہاکہ طاغوتی طاقتیں غلبہ اسلام سے خائف ہوکرمسلمانوں کے خلاف پوری طرح سرگرم ہیں اور وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کاکوئی بھی موقع خالی ہاتھ نہیں جانے دیتیں۔وطن عزیزکے22کروڑ عوام کامطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان ہالینڈ کے سفیر کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک بدر کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں