گستاخانہ خاکوں کے مقابلے مسلمانوں کی اجتماعی ناکامی ہیں: وزیر اعظم

اسلام آباد(ایس این این ) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے مسلمانوں کی اجتماعی ناکامی ہیں جب کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔سینیٹ اجلاس میں ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد مذمت منظور کرلی گئی، قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ نبی اکرمﷺ سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے، مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے، گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ ناقابل برداشت عمل ہے، حکومت اس مسئلے کو سفارتی سطح پر اٹھائے اور ہالینڈ کی حکومت سے بھرپور احتجاج کیا جائے۔قرارداد کی منظوری کے بعد سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو قرارداد پاس کی ہے، اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، مغرب میں لوگوں کو اس معاملے کی حساسیت کا اندازہ نہیں جب کہ آزادی اظہار کے نام پر مغرب کا معاشرہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا، مغربی معاشرے میں اس طرح کے کام کرنا آسان ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم پہلے او آئی سی کو اس معاملے پر متفق کرنے کی کوشش کریں گے، ان چیزوں کا بار بار ہونا مسلم دنیا کی اجتماعی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو بہت پہلے اس پر ایک حکمت عملی بنانی چاہیے تھی، مسلمان دنیا پہلے ایک ہو اور ایک چیز پر اکھٹی ہو، پھر اس مسئلے کو آگے اٹھایا جائے اور بتایا جائے کہ توہین رسالتﷺ پر ہمیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں اس لیے آیا ہوں کہ پارلیمنٹ کی اہمیت کو بڑھایا جائے، پارلیمنٹ میں ہر 2 ہفتے بعد آوٴں گا اور مختلف سوالات کے جوابات دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ 28 ہزارارب پاکستان پر قرضہ چڑھ چکا ہے،عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کریں گے، عوام کا پیسہ ہمارے شاہانہ خرچوں کے لیے نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام ٹیکس تب دے گی جب ان کو یقین ہو کہ یہ پیسہ ان پر خرچ ہو، سادگی مہم اس لیے شروع کی کہ اپنے خرچے کم کرسکیں، خرچے کم کریں گے اور آمدنی بڑھائیں گے، انشاء اللہ ہم جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک کے ادارے مضبوط کریں گے جب کہ باہر کے دورے تب کریں گے جب ملک کے اندر گورننس سسٹم ٹھیک کرلیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب تک ہم اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے اللہ ہماری حالت نہیں بدلے گا، قرضوں پر گزارا کرنے والی قومیں اپنی عزت کھو بیٹھتی ہیں جب کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گورننس سسٹم ٹھیک کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں