خارجہ پالیسی میں پاکستانی مفادات کو فوقیت دی جائے:‌عمران خان

اسلام آباد(ایس این این) وزیراعظم عمران خان دفتر خارجہ پہنچے جہاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے دوران سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے وزیراعظم کوعلاقائی و عالمی مسائل، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات، وزارت خارجہ کی تشکیل، اس کی ساخت، کام کرنے کے طریقے اور خارجہ پالیسی پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس پر ہونے والی پیش رفت سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ کے دوران وزیر اعظم نے وزارت خارجہ کے حکام کو پالیسی گائیڈ لائن دی، انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی، قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، انہوں نے بیرون ملک سفارت خانوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کا کوئی ملک دوسرے کے ساتھ مفاد کے بغیر تعلق استوار نہیں کرتا، دفتر خارجہ اور سفارتکاروں کے نزدیک صرف پاکستان مقدم ہونا چاہیے، سفارت کاری کا مقصد ہر صورت اپنے مفاد کا تحفظ ہونا چاہیے، سفارت کار پاکستان کی برآمدات اور سرمایہ کاری میں فعال کردار ادا کریں، میں ہمسایہ ممالک سمیت سب کے ساتھ برابری کی سطح پردوستانہ تعلقات چاہتا ہوں، پرامن افغانستان ہماری خواہش اور اولین ترجیح ہے، افغانستان میں قیام امن کے لئے ہر طرح کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، افغان مسئلے کا حل جنگ نہیں مذاکرات ہیں اور ہم اسی موقف کو آگے بڑھائیں گے۔
سمندر پار پاکستانیوں کے حوالے سے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں، دنیا بھرمیں پاکستانیوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کریں، پاکستانیوں کے لئے بیرون ملک سفارتخانے مدد مراکز نظر آنے چاہیئں۔پاک بھارت تعلقات پر وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دیرینہ مسائل کا حل خطے کی ترقی کے لئے ناگزیر ہے، کسی بھی ملک کے ساتھ خوامخواہ کا الجھاؤ نہیں چاہتے، کشمیریوں سے زیادتیوں کو ہر فورم پر اجاگر کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں