نیب قانون کالعدم، گرفتار افراد کو رہا کیا جائے،لاہور ہائیکورٹ میں رٹ

ساہیوال(بیورورپورٹ)18 ویں ترمیم کے بعد نیب کی قانونی حیثیت ختم ہوچکی۔ مقدمات ختم، گرفتار افراد رہا، سزائیں کالعدم قرار دی جائیں۔ نیب کو مطلوب وکیل باپ بیٹے کی رِٹ پر چیف جسٹس نے تین رکنی بنچ قائم کردیا۔ چیئرمین نیب کو 27 اگست کیلئے نوٹس جاری۔ ریٹائرڈ ایگزیکٹیو ڈسٹرکٹ آفیسر کمیونٹی ڈویلپمنٹ محمد سلیم ایڈووکیٹ اور اُن کے بیٹے سعد سلیم ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں آئینی رِٹ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد نیب آرڈیننس اپنی قانونی حیثیت کھوچکا ہے۔ نیب کی تمام کاروائیاں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مقدمات ختم اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاورعلی خان نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود، جسٹس شاہد جمیل پر مشتمل تین رکنی بنچ کو سماعت کی ہدایت کردی۔ فیڈریشن آف پاکستان اور چیئرمین نیب کو 27 اگست کیلئے نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں۔ ذاتی حیثیت سے دائر کردہ رِٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے آئینی حکومت کو زبردستی برخواست کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے سیاستدانوں کو بلیک میل کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے جن میں نیب آرڈیننس بھی شامل ہے۔ آرٹیکل 89 کے مطابق آرڈیننس کی مدت 120 یوم ہوتی ہے جو 11فروری 2000 کو ختم ہوچکی ہے۔ 17ویں ترمیم کو 18ویں ترمیم سے ختم کرنے کے بعد 18ویں ترمیم کے آرٹیکل 96 کوآرٹیکل 270AA سے تبدیل کیا گیا۔ درخواست گذاروں نے عدالت کے سامنے سوالات رکھے ہیں کہ اگر نیب آرڈیننس کو برقرار تصور کرلیا جائے تو 18ویں ترمیم کی کیا حیثیت ہوگی۔ ترمیم کے نفاذ کے بعد نیب کی کاروائیوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔ 17ویں ترمیم کے نفاذ سے قبل نیب کے اقدامات کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔ فریقین کو 27 اگست کے لئے نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں