ساہیوال، اے جی آفس کی غفلت، نئے ایجوکیٹر تنخواہوں سے محروم

ساہیوال (بیورو رپورٹ) نئے پاکستان میں پرانا اکاؤنٹ آفس ساہیوال، جس میں کلرک مافیاروایتی ہٹ دھرمی اور سسٹم کو برقرار رکھنے پر بضد. نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ چھ ماہ بعد بھی تنخواہوں سے محروم. تفصیلات کے مطابق رواں سال فروری میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی سروس بکس اور ڈگری تصدیق سمیت دیگر کوائف ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر چیچہ وطنی آفس نے اکاؤنٹ آفس ساہیوال کولیٹر نمبر 1365 کے تحت مورخہ 9 جون 2018 کو بھجوائے تھے لیکن دو ماہ سے زائد گزر جانے کے باوجود تاحال نئے ایجوکیٹرز کو تنخواہیں جاری نہ ہوسکیں.
فردا فردا اکاؤنٹ آفس ساہیوال جانے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے ٹرخایا جا رہا ہے تاکہ بخشیش کی راہ ہموار کی جاسکے. کسی کو کہا جاتا ہے کہ اس کی سروس بک نہیں پہنچی تو کسی کو کمشنر آفس سے لیٹر نہ پہنچنے کی کہانی سنائی جاتی ہے. جس کا مقصد بادی النظر میں بارگین کرنا ہے تاکہ مجبور ہو کر اساتذہ بارگین کر کے اپنا کام نکلوائیں. پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر عابد شجاع ملہی کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اکاؤنٹ آفس ساہیوال اپنا قبلہ درست کرے ورنہ راست اقدام پر مجبور ہونگے، یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے کہ دیگر شہروں میں اساتذہ کو تنخواہوں کا اجراء ہو چکا ہے جبکہ ساہیوال کے اساتذہ کلرک مافیا کے رحم و کرم پر ہیں.
ان کے ساتھ ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران رضوان الحق ، محمد شفیق جٹ، رانا محمد افضل، شوکت کاٹھیا، عبدالقدیر کاٹھیا، طاہر وڑائچ اور محمد ندیم بھی موجود تھے.رضوان الحق کا کہنا تھا کہ پرانا روایتی سسٹم اب ختم ہونا چاہئے اور اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے راست اقدامات اٹھائے جائیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں