خان صاحب! آپ واقعی جیت گئے —- ابن ادیب

(ابن ادیب تحریک انصاف کا وہ ساتھی جو 22 سال پہلے آپ کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے آپ کا کندھا بنا تھا)
1996سے پاکستان کی روایتی سیاست میں قدم رکھنے والاغیر روایتی عمران خان کرکٹ کی دنیا میں راج کر کے کرکٹ کے شائقین کی توجہ کا حامل تو تھا ہی، شوکت خانم کے قیام نے اسے غریبوں کی امیدوں کا مرکز بھی بنا ڈالا تھا۔ سیاست میں قدم رکھا تو مجھ ایسے کئی نوجوان اس کی پکار پر اس طرح اس کی جانب لپکے جیسے پیاسا کنویں کی جانب لپکتا ہے۔اس کے گرد چند ہی سالوں میں جانثار اور مخلص لوگوں کا ایسا طبقہ جمع ہوا جو اس غاصبانہ انداز حکومت کے خلاف اس کے شانہ بشانہ جنگ لڑنا چاہتا تھا۔تحریک انصاف کے قیام نے دو پارٹیوں کی سیاست سے اکتائے ہوئے اس طبقے کو توانائی بخشی تھی۔ اس طبقے کو یقین تھا کہ عمران خان قوم کی بھنور میں پھنسی کشتی کو کنارے لگانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ابتدا میں عمران خان کی اس پارٹی نے کوئی خاطر خوا کامیابی حاصل نہیں کی مگر عزم پیہم کو اپنا ہتھیار بنائے اس کے ساتھی جہد مسلسل کے اصول پر عمل پیرا تھے۔ 2002ء میں عمران خان نے ایک نشست جیتی اور مشرف کے ہم نشین بن گئے۔یہ وہ موڑ تھا جہاں خان صاحب کی سیاست کو ٹریپ کرنے کی سازش شروع ہوئی اور ان کا نظریہ پس پشت جانے لگا۔ مشرف کی جانب سے مبینہ طور پر وزارت عظمیٰ کا لالچ دیا گیا تھا تاہم عمران خان اسے سمجھنے میں ناکام رہے اور مشرف کے ٹولے کے ہمراہ بیٹھے رہے بعد ازاں چند فہم و فراست والے سمجھا بجھا کر انھیں راہ راست پر لائے اور 2008 میں انھوں نے اپنی ہم جولیوں کے ساتھ انتخابات کا ہی بائیکاٹ کر دیا۔ 2008ء سے 2013 کے درمیان خان صاحب کا رویہ اس قدر تبدیل ہوا کہ وہ نظریہ جو اپریل 1996 ء میں ان کا زادراہ تھا لٹتا نظر آیا اور حلقہ یاراں منتشر ہونے لگا۔اپنے جانثاروں کوعضو معطل جان کر خان صاحب نے پرے دھکیلنا شروع کر دیا اور ان کے دربار میں خوشامدیوں کی بھیڑ رہنے لگی۔ خان صاحب کا مطمع نظر وہ سیاست دان بنے جو تخت لاہور کے شاہ میاں نواز شریف کا ساتھ مشرف دور میں چھوڑ گئے تھے۔ پھر وہی رائے، وہی لودھی، وہی خان، وہی مخدوم اور سردار و نواب ان کے دست راست ٹھہرے جو کل شریف زادوں کی آنکھ کا تارا تھے۔ وہ لوگ جو ان کے ساتھ جماعت کے بانیوں میں سے تھے دور ہوتے گئے کیوںکہ وہ جس خان کا ساتھ دینے آئے تھے وہ خان کہیں ماضی میں گم ہو گیا تھا۔ رہزنوں سے بچنے والوں کو رہبروں کے ہاتھوں اپنی کمائی لٹتی نظر آئی تو انھوں نے دبے الفاظ میں دست بدستہ خان صاحب کی خدمت میں اپنے تحفظات پیش کیے مگر خان صاحب کو خوشامدیوں نے جو خواب دکھائے تھے خان صاحب اس نشے سے باہر آنے پر تیار نہیں تھے۔ اور پھر چند ہی لوگ تھے جو نظریاتی تھے جو ان کے ساتھ رہے باقی سب گمنامی کی نذر ہوگئے اور کیوں نہ ہوتے وہ نہ تو دولت مند تھے نہ معروف سیاست دان کہ کسی اور پارٹی میں پناہ لیتے۔ افتخار چودھری کی بحالی تحریک میں کسی حد تک عمران خان کا کردار مثبت تھا اور انھیں میاں نواز شریف کا ساتھ بھی حاصل تھا تاہم عمران خان کو میاں صاحب سے شکایت رہی کہ وہ طے شدہ مقام تک نہیں آئے اور جج صاحب کی بحالی کا حکم پا کر اکیلے ہی بحالی کا کریڈٹ لے اڑے۔ 2013ء میں انھیں جو نشستیں ملتی ہیں وہ ان کی توقاعت سے کم ثابت ہوتی ہیں ۔بنی گالا میں دکھائے گئے خواب سراب بنتے ہیں اور یہاں ان کی سیاست کو وہ ٹوئسٹ منظر عام پر آتا ہے جس میں ان کی نظریاتی سیاست اور با شعور سپورٹر کی امید دم توڑتی نظر آتی ہے۔ بنی گالا اب ان کا مرکز ہے جو بنے گا نیا پاکستان کے نعرے لگا کر خان صاحب کو لوری دیتے ہیں ۔ رائے حسن نواز، ترین، نوریز شکور، فواد چودھری، اشرف سوہنا، شاہ محمود قریشی جیسا ٹولا ان کے گرد جمع ہوتا ہے۔ عمران خان کی غیر روایتی سیاست مر جاتی ہے اور پاکستان کی روایتی سیاست بنی گالا میں رقص کرتی ہے۔ دھرنا شروع ہوتا ہے اور جرنیلوں اور عدلیہ کے بارے میں تحفظات رکھنے والا عمران خان ایمپائر کی انگلی کا منتظر نظر آتا ہے۔ مشرف دور کے چند لوگ خان کو یقین دلاتے ہیں کہ بس اب نواز کا دھڑن تختہ ہونے ہی والا ہے۔ خان صاحب کے پرانے ساتھی خان کی اس روش پر پریشان تھے ان میں سے چند نے اپنے مشترکہ دوستوں کے ذریعے انھیں سمجھانے کی کوشش کی مگر ایک رعونیت تھی جو خود پسند شخص کو کسی کی سننے نہ دے رہی تھی۔ مشرف کے حامی ان کو یقین دلا رہے تھے اور وہ طاقت جس پر انھیں یقین تھا کہ ان کا راستا صاف کرے گی وہ حکومت اور اداروں میں پیدا ہونے والے عدم توازن کی اپنی جنگ لڑ رہی تھی۔ مشرف کے معاملے پر حکومتی پالیسی نے اسے اطمینان کی راہ دکھائی تو اسے اپنا کردار غیر موثر نظر آیا اور اس نے انگلی اٹھانے سے انکار کر دیا۔ نواز اور اس طاقت کی جنگ کا فائدہ جو خان صاحب لینا چاہ رہے تھے وہ انھیں اس وقت تو نہ ملا مگر پانامہ کے قضیے نے ان کے دھرنے کے پارٹ ٹو کو ایک ایسی راہ دکھائی جس میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا مگر دھرنے کی وجہ سے جو کریڈٹ اسے نہیں ملا تھا وہ پانامہ اور دوسروں کی آپس کی جنگ نے اسے دلا دیا۔ ادارے ہمدرد بنے اور ہوا کا رخ دیکھ کر الیکٹیبلز نما مخلوق عمران خان کے نظریہ کی میت دفن کرنے اس کے ساتھ آن ملی۔ نواز شریف نے اپنے گرد جو خو شامدی ٹولا اکٹھا کیا تھا اور اقربا پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عہدوں اور وزارتوں کی بندر بانٹ کی تھی اس نے اسے عوام میں غیر مقوبل کرنا شروع کر دیا تھا۔ ختم نبوت کا معاملہ جلتی پر تیل تھا اور نااہلی کے بعد اس کا بیانیہ توانا تو تھا مگر اب دیر ہو چکی تھی لوہا گرم تھا چوٹ لگائی گئی اور صاف چلی شفاف چلی کی رسم گود بھرائی لوٹوں سے کر دی گئی۔ نظریاتی لوگ پچھلی صفوں میں ہوئے اور پھر مسجد میں جوتے گنوا کے جانے والوں کی طرح ننگے پاؤں نم آنکھوں سے خان صاحب کی نظروں سے دور ہو گئے۔ اب انھیں ان کی کوئی ضرورت نہ تھی اب یہ ضرورت پیرنی کی پھونکیں، جہازوں کی اڑانیں اور فواد چودھری اور بابر اعوان کے بیانات پوری کر رہے تھے۔ شیخ رشید جیسا چپراسی ان کا یار غار تھا۔پرویز الٰہی جیسا شخص جنھیں وہ ڈاکو قرار دے چکے تھے ان کا ہمقدم تھا۔کے پی میں پہلے تو توجہ ہی نہ دی گئی۔ کے پی ڈوبا اور خٹک ڈانس اسلام آباد کے میلوں کی زینت بنا۔ جنگلا بس کی نفی کرنے کے بعد پشاور میں اس کا آغاز ہوا۔ پشاور ٹوٹا پھوٹا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔کل تک وہ جنھیں ساتھ نہ ملانے کے دعوے کرتا تھا اب اس کے ساتھ تھے۔ اور حیرت یہ کہ وہ خوش تھا اس کے چہرے پر نہ کوئی ندامت تھی نہ شرمندگی اور پھر نادیدہ آشیر باد،عدل کی جانب داری اور الیکٹیبلز کی مدد سے جیت گیا کیونکہ اب اس کا کہنا تھا کہ وہ ایسے جیت ہی نہ سکتا الیکٹیبلز برے ہیں یا اچھے انھیں سیاسی داؤ آتے ہیں اور پھر سب کو ملا کر جیت گیا۔۔۔وہ جیت گیا مگر اس کا نظریہ آج ہار گیا ۔۔۔۔ہم جشن مناتے ہوئے یہ ضرور سوچیں کہ 22 سال پہلے والا وہ مسیحا کہیں کھو چکا ہے آج جیتے ہیں تو الیکٹیبلز ۔۔۔۔ وہ پٹواری جو کل ن کے ساتھ تھے۔ وہ جیالے جو زرداری کی کرپشن کے پردہ دار تھے وہ سب جیتے نظریاتی کارکن ہارا اور عمران خان واقعی جیت گیا۔طاقت کے تواز ن کے مقابلے کی جنگ میں دوفریقوں میں آپ کو فائدہ ملا اور آپ اسے جیت سمجھتے ہیں واہ۔۔۔مبارک ہو خان صاحب آپ جیت گئے ہیں۔باقی جماعتوں سے تو ہمیں شکوہ ہی نہیں وہ ایسی ہی تھیں آپ ایسا کیوں بنے؟ موقع ملے تو بتائیے گا ضرور مگر ہم جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں مخدوم، ترین ، پراپرٹی ٹائکون آپ کی طاقت ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں