پشاور میٹرومنصوبے میں میبنہ کرپشن، نیب کو تحقیقات کا حکم

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاورہائیکورٹ نے نیب کو بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بی آر ٹی کیس میں محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔عدالت عالیہ نے بس ریپڈ ٹرانزٹ کیس مزید تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوانے کا حکم دیا جبکہ فیصلے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ منصوبہ 24 جون 2018 کو مکمل جانا تھا لیکن مکمل نہیں کیا جاسکا۔عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ دوسرے صوبے میں بلیک لسٹ قرار دی گئی فرم کو تعمیراتی کام کا ٹھیکہ دیا گیا جس سے نہ صرف منصوبے کی لاگت 49.3 ارب سے بڑھ کر 67.9 ارب روپے تک پہنچ گئی بلکہ دیگر منصوبوں کے فنڈز بھی پشاور بس سروس منصوبے میں لگائے گئے ۔عدالت عالیہ نے نیب کومنصوبے کی شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ 5 ستمبر کو پیش کرنے اور مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل نہ کرنے پرپراجیکٹ ڈائریکٹر اسرار الحق کی خدمات وفاق کے حوالے کرنے کا حکم بھی دیدیا۔یاد رہے کہ بی آر ٹی میں مبینہ کرپشن کے خلاف جے یو آئی کے رہنما مولانا امان اللہ حقانی نے رٹ دائر کی تھی۔ عدالت نے استفسار بھی کیا کہ بی آر ٹی منصوبے کی لاگت میں اضافہ کیوں کیا گیا۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کی نگران حکومت نے کے پی ہائوس اسلام آباد میں 20 کروڑ روپے چائے پر خرچ کرنے کیخلاف نیب سے رجوع کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نگراں حکومت نے نیب کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس کی نیب تحقیقات کرے، ہم ان سے تعاون کریں گے، مراسلہ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے۔نیب نے تحقیقات کیلئے نگرا ں حکومت کی درخواست منظور کر لی ہے۔کچھ عرصہ قبل قومی میڈیا پر یہ خبر چلی تھی کہ خیبرپختونخوا ہائوس اسلام آباد میں گزشتہ تین سال کے دوران مہمانداری پر 20 کروڑ سے زیادہ رقم خرچ کی گئی، سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، شیریں مزاری، عمران خان، اسد عمر، اعظم سواتی اور شاہ محمود قریشی کے چائے پانی پر خرچ ہوئی۔ادھرخیبر پختونخواہ ہاؤس اسلام آباد میں ایک وقت کی چائے پر دو لاکھ روپے کے اخراجات کا معاملہ جانچ پڑتال کیلئے نیب ہیڈ کوارٹرز بھجوا دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایاہے کہ کے پی کے کی نگران حکومت کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کیلئے 10 جولائی کو نیب خیبر پختونخوا ہ کو ایک خط لکھا۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد کی تحقیقات نیب خیبر پختونخوا ہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں اسلئے صوبائی حکومت کا خط جانچ پڑتال کیلئے نیب ہیڈ کوارٹرز بھجوا دیا گیا ہے۔نگران صوبائی حکومت کی جانب سے نیب خیبر پختونخواہ کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے لہذا اس کی تحقیقات کی جائے۔نگران حکومت نے نیب کو لکھے گئے خط میں اس معاملے میں تعاون کی درخواست بھی کی ہے۔جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں کے پی کے ہاؤس اسلام آباد میں چائے کے اخراجات کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔جیو نیوز کے سینئر تجزیہ کار اور پروگرام جرگہ کے میزبان سلیم صافی نے 8 جولائی کے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ خیبرپختونخوا ہ ہاؤس اسلام آباد میں انہیں اور ان کی ٹیم کو جو چائے پلائی گئی تھی اس کا بل کے پی کے ہاؤس اسلام آباد کی جانب سے ایک لاکھ 89 ہزار روپے بنایا گیا تھا۔صوبائی نگران حکومت نے جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں خیبرپختونخواہ ہاؤس اسلام آباد کے اخراجات سے متعلق خبر کا نوٹس لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں