ساہیوال، پولیس کے چھاپے،(ن) لیگ کی سینئیر قیادت نظر بند

ساہیوال(ایس این این ) ساہیوال پولیس کا ن لیگ کے خلاف کریک ڈاؤن،درجنوں کارکن گرفتار کرلیے گئے. پولیس ذرائع کے مطابق سپریم ہاؤس ساہیوال پر چھاپہ مار کر ساہیوال پولیس نے سابق وزیر اعظم کے استقبال کے لیے لاہور روانگی کی تیاریوں‌میں مصروف ساہیوال مسلم لیگ کے ضلعی جنرل سیکرٹری راؤ نذز فرید، امیدوار قومی اسمبلی سید عمران شاہ، سابق صوبائی وزیر ملک ندیم کامران سمیت 35 کارکنان کو گرفتار کر لیا.

سینئیر رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا ہے. پولیس مسلم لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کے لیے اب بھی چھاپے مار رہی ہے. کئی کارکنان نے خود گرفتاری پیش کی جب کہ کئی کارکنان مختلف راتوں سے لاہور روانہ ہوگئے یا روپوش ہو گئے ہیں.مسلم لیگ کی مقامی قیادت کے مطابق چیچہ وطنی سے سابق ایم این اے طفیل جٹ اور ان کے ساتھیوں‌پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے.

مقامی لیگی قائدین وکارکنوں کے درمیان پولیس کی جھڑپیں ہوئیں‘میاں نوازشریف اورمریم نواز کی لندن سے لاہور ائیر پورٹ آمد کے سلسلہ میں مسلم لیگ ن ساہیوال کے مقامی قائدین وسابق ممبران اسمبلی پیر سید عمران احمدشاہ‘ملک ندیم کامران‘ محمدارشد ملک‘ چوہدری طفیل جٹ اور ضلعی جنرل سیکرٹری راؤ نذرفرید ایڈووکیٹ کی قیادت میں درجنوں کارکنوں کا قافلہ سپریم ہاؤس سے پیدل لاہور کیلئے روانہ ہوا تو پولیس نے انہیں روکا لیکن کارکنان لاہور جانے کیلئے پرجوش تھے۔ تھوڑا آگے پولیس کی بھاری نفری نے انہیں دوبارہ روکا جس پر کارکنا ن اورپولیس کی دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے دوران سابق ایم این اے طفیل جٹ زخمی ہو گئے۔ پولیس نے راؤ نذر فرید سمیت درجنوں کارکنان کو گرفتارکرلیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پیر سید عمران احمدشاہ‘ملک ندیم کامران اور محمدارشد ملک سپریم ہاؤس کے پچھلے دروازے سے گاڑی پر لاہور روانہ ہوگئے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ گرفتارکارکنوں نقص امن عامہ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا جنہیں رات کے وقت چھوڑ دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں