ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر ہونے کا امکان

راولپنڈی(ایس این این) احتساب عدالت شریف فیملی کے خلاف زیر سماعت ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آج سنائے گی. فیصلہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیرسنائیں گے، یہ فیصلہ 3 جولائی كو محفوظ كیا گیاتھا۔ احتساب عدالت ملزمان کو جمعے کو پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کرچکی ہے فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر انہیں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کرچکی ہے۔تاہم ذرائع کے مطابق قوی امکانات ہیں کہ نواز شریف کی جانب سے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کے پیش نظر عدالت فیصلہ الیکشن کے بعد تک ملتوی کر دے. تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے فیصلہ آج سنانے کا مطالبہ کیا ہے. بلاول بھٹو کے نزدیک بھی ملزم کی ہدایت پر عدالت کا فیصلہ موخر کرنا درست نہیں.
ریفرنس میں نواز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز کے ساتھ کیپٹن (ر) صفدر بھی ملزم نامزد ہیں۔ نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوتے رہے تاہم حسن اور حسین نواز پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر انہیں اشتہاری قرار دیا تھا اور ان تک رسائی کے لیے انٹر پول سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تمام ملزمان کے خلاف مقدمات میں نیب کی دفعہ نائن اے لگائی گئی ہے جو رقوم اور تحائف کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ہے۔اس جرم کی سزا 14 سال قید ہے۔ مریم نواز کے خلاف جعلی دستاویزات کے الزام میں ایک اور سیکشن 31 اے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں سزا 3 سال قید ہے۔نوازشریف نے اپنے وکیل کے ذریعے اس مقدمے کا فیصلہ آج سنانے کے خلاف درخواست دائر کی ہوئی ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ موخر کی جائے، عدالت نے یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے اور آج فیصلہ سنانے سے قبل اس درخواست کی سماعت ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں