ایک عرب دیہاتی کی مقبول دعا (حکایت)

ایک عرب دیہاتی کی مقبول دعا حکایت
ایک عرب دیہاتی روضہ رسولﷺ پر حاضر ہو کر ربـ ّ العالمین سے دعا کرتا ہے اس کے مانگنے کا انداز ایساہے کہ بڑے بڑے عالم اس کے اندازِ دعا پر رشک کرتے ہیں۔یہ ایسا خاص اورمجرب اندازِ دعاہےجو ہمیں اس عرب حکایت سے ملتا ہے ۔ دعا کا یہ خاص قرینہ، اسلوبِ بیان، لجاحت اور گریہ و زاری ہے جو بارگاہ عزوجل میں بالیقین مقبول ہوتا ہے۔ ہمیںاس عرب دیہاتی کے دعا مانگنے کے انداز پر غور کرنا چاہیے اور اس گاؤں کے رہنے والے عرب سے سیکھنا چاہیے۔
اے اللہ! یہ تیرے حبیب ہیں ، میںتیرا غلام ہوںاور شیطان تیرا دشمن۔
اے اللہ ! اگر تو مجھے بخش دے گا تو تیرا حبیب خوش ہو گا ، تیرا بندہ کامیاب ہو گا اور تیرا دشمن شیطا ن غمگین ہو گا۔
اے مولائے کریم! اگر تو نے میری بخشش نہیں کی تو تیرا حبیب غمگین ہو گا، تیرا یہ غلام ناکام ہو گا اور تیرا دشمن خوش ہو گا۔
رحمٰن و رحیم اللہ!تیری شان اس سے بلند و بالا ہےکہ تو اپنے حبیب کو غمگین کردے، اپنے بندے کو ناکام اور اپنے دشمن کو خوش کر دے۔
میرے پروردگار! ہم عرب ہیں ہمارے یہاںجب کوئی سردار فوت ہو جاتا ہےتو اسکی قبر پر غلاموں کو آزاد کیا جاتا ہے ، یہ قبرِ انوار، مزار پُر انوار تمام جہانوں کے سردار حضرت محمدرسول اللہﷺ کی ہے، پس مجھ غلام کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔
(عرب حکایات سے ماخوذ)

اپنا تبصرہ بھیجیں