اردو ادب کے دورِ یُوسفی کا باب بند، مشتاق یوسفی انتقال کر گئے

کراچی(ایس این این) اردو ادب میں مزاح کے دور یوسفی کا باب بند ہو گیا. معروف ادیب اور ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی آج کراچی میں انتقال کرگئے، ان کی عمر 95 برس تھی، وہ کافی عرصہ سے علیل تھے۔مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923ء کو راجستھان کے شہر جے پور میں پیدا ہوئے تھے، ان کے والد عبدالکریم خان یوسفی مقامی اسمبلی کے اسپیکر اور میونسپلٹی چیئرمین کے عہدوں پر فائز رہے، مشتاق احمد یوسف نے ابتدائی تعلیم راجپوتانہ سے حاصل کی جبکہ آگرا یونیورسٹی سے گریجوایشن کیا جس کے بعد علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا تھا، انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو ادب کی خدمت میں گزاری۔
مشتاق احمد یوسفی 1950ء سے مختلف بینکوں سے وابستہ رہے، 1977ء میں وہ پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہوئے، بینکنگ کے شعبے میں اعلیٰ خدمات پر انہیں قائد اعظم میموریل میڈل سے نوازا گیا۔حکومت پاکستان کی جانب سے بھی انہیں ادبی خدمات پر ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا تھا۔مشتاق احمد یوسفی اب تک5 کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں، چراغ تلے 1961ء، خاکم بدہن1969ء، زرگزشت1976ء، آبِ گم 1990ء اور شام شعر یاراں 2014ء شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں