محنت کش کے بچوں کو پتھرا دینے والا مرض لاحق

کراچی(ایس این این) کراچی میں سجاول نامی شہر سے آئے ہوئے بچے ایک ایسے عجیب و غریب مرض کا شکار ہیں جسے پاکستان میں لاعلاج قرار دیا گیا ہے. سجاول سے کراچی آنے والے مزدور کے 4 بچے ایک ایسےمرض کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں اور پیروں کی جلد سخت ہوکر پتھرکی طرح بن گئی ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق 19 سالہ حبیب اللہ بھٹی، 15 سالہ مہرالنسا، 10 سالہ نصیب اللہ بھٹی اور 6 سال کی بیٹی خیرالنسا ایپی ڈرمولائٹک ہائپر کیرا ٹوسس کے شکار ہیں جس میں ہاتھوں اور پیروں کی جلد سخت ہوتی جاتی ہے, یہ مرض دنیا میں دو لاکھ میں سے کسی ایک فرد کو لاحق ہوسکتا ہے۔

ان بچوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کی جلد بڑھ کر سخت ہوچکی ہے جس سے ان بچوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے یہاں تک کہ یہ بچے چپل اور سینڈل پہننے سے بھی قاصر ہیں۔ ڈاکٹروں نے اس مرض کو لاعلاج قرار دیا ہے جس سے بچوں کے والد نذیر بھٹی اور والدہ عابدہ علی بہت پریشان ہیں۔
تین سال قبل خیرالنسا کے پیروں پر نئی جلد اگنے لگی تھی جو اگلے دو تین ماہ میں ٹھوس ہوتی گئی اور اس میں تکلیف بڑھتی گئی۔ والدین نے بچی کا روحانی علاج کرایا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا اور اس کے بعد باقی تینوں بچے بھی اسی مرض میں مبتلا ہوئے۔
متاثرہ بچوں کے ماں باپ نے کئی ڈاکٹروں کو چیک کروایا لیکن کہیں سے بھی افاقہ نہ ہوسکا اور مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ بچوں کا غریب والد مزدوری کرتا ہے اور روزانہ 500 روپے کماتا ہے اس بنا پر وہ بچوں کا علاج کرانے سے بھی قاصر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں