ساہیوال کی ایڈیشنل ڈی سی کنول نظام بھٹو کا ملازمہ پر تشدد

اسلام آباد(ایس این این) وفاقی دارالحکومت کی زنانہ پولیس نے ساہیوال کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کنول بھٹو کے خلاف نو عمر ملازمہ پر تشدد کرنے کے الزام پر مقدمہ درج کرلیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بنی گالہ میں مقیم کنول بھٹو نے مبینہ طور پر 18 سالہ ملازمہ پر ان کی بیٹی کو نہلانے کے دوران رلانے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسلام آباد کی ویمن پولیس تھانے میں متاثرہ لڑکی طیبہ شوکت کی شکایت پر پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 506، 342 اور 34 کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی۔ متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ کنول بھٹو کی 4 سالہ بیٹی کان میں بالیوں کی وجہ سے رو رہی تھی تاہم کنول بھٹو نے اس پر بچے کو مارنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایف آئی آر میں کنول بھٹو کی والدہ اور اور ساس کو شریک ملزمان کو طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ طیبہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ تینوں خواتین نے بے رحمانہ طریقہ سے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا، گالیاں دیں اور مجھے ٹی وی لاؤنج میں گھسیٹ کر لے گئیں جہاں مجھ پر کھانے کے کانٹے سے تشدد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے کپڑے پھاڑے گئے اور مجھے کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا گیا تاہم میں بڑی مشکل سے وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی۔ واضح رہے کہ طیبہ، کنول بھٹو کے گھر پر گزشتہ 3 ماہ سے کام کر رہی تھی اور اس دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں تنخواہ بھی نہیں دی گئی اور انہیں اپنے گھر جانے یا گھر والوں کو فون کرنے پر بھی پابندی لگائی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جب میں ان سے پیسوں کا مطالبہ کرتی تو وہ مجھے مارتے تھے اور جب میرے والدین پیسوں کے لیے ان سے کہتے تو وہ کہتی تھیں کہ ہم بھی ساہیوال سے ہیں تم بھی ساہیوال سے ہو، ہر وقت پیسے کیوں مانگتے ہو؟۔ پولیس کو دیے گئے بیان میں لڑکی نے کہا کہ ایک مرتبہ جب ان کی والدہ ان سے ملنے آئیں تو انہیں ذلیل کرکے باہر نکال دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کنول بھٹو کے اہلخانہ اس لیے ایسا کر رہے تھے کیونکہ انہوں نے میری 3 ماہ سے تنخواہ نہیں دی تھی۔ طیبہ نے دعویٰ کیا کہ کنول بھٹو اس ہی طرح کا برتاؤ گزشتہ ملازمہ کے ساتھ بھی کیا تھا اور اسے بھی پیسے دینے سے انکار کردیا تھا تاہم اس نے کنول بھٹو کے خلاف کمزور ہونے کے باعث قانونی کارروائی نہیں کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں