نصرت فتح علی خان کی جانشینی، راحت اور ندا نصرت آمنے سامنے

فیصل آباد(ایس این این) نصرت فتح علی خان نے اپنی وفات کے بعد جو ورثہ چھوڑا اسے راحت فتح علی خان نے ان کے بعد آج تک زندہ رکھا ہوا ہے تاہم اچانک ہی نصرت فتح علی خان کی بیٹی منظر عام پر آئی ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ اب جوبھی نصرت فتح علی کا کلام،قوالی یا گاناگائے گا اسے اجازت لینا ہوگی۔چاہے وہ راحت فتح علی خان ہی کیوں نہ ہوں۔انھوں نے یہ بات لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہی. ندا نصرت کا کہنا تھا طویل عرصے سے ان کے والد کے گانے اور قوالیوں کو غیر قانونی طور پر گایا اور استعمال کیا جارہا ہے جو اب قابل قبول نہیں ۔نداکے بقول راحت فتح علی خان اچھا کام کر رہے ہیں مگر اب انہیں بھی نصرت فتح علی خان مرحوم کے کلام ، قوالیاں اور گیت استعمال کرنے سے پہلے اجازت لینا ہو گی۔
راحت فتح علی خان نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نصرت فتح علی خان کا منہ بولا بیٹا،ان کا جاں نشین ہوں،نصرت فتح علی خان کے گانے،قوالیاں اورکلام گانے کے لئے مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ہمارے خاندان کی 600سال سے زائد تاریخ میں کبھی ایسانہیں ہوا۔قوالی اورصوفی میوزک میں ہمارے خاندان کی بڑی خدمات،بڑا حصہ ہے۔میرے والد استاد فرخ فتح علی خان اورنصرت فتح علی خان میرے دادا استاد فتح علی خان اورخاندان کے دیگرافراد کا کلا م گاتے تھے ۔کبھی کسی نے کسی کی اجازت نہیں لی۔ہم ایک خاندان ہیں اورجوکچھ ہے پورے خاندان کا سانجھا ہے۔ہم کبھی تقسیم نہیں ہوں گے۔‘ دوسری جانب ندا نے راحت فتح علی خان سے شادی کی خبروں کوغلط قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پریہ افواہیں پھیلائی گئیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔والد کی وفات کے بعد فیملی کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوگئی تھی لیکن اب پاکستان آتی جاتی رہوں گی۔ایک سوال کے جواب میں ندا نصرت نے کہا کہ ابھی گائیکی کا کوئی ارادہ نہیں تاہم مستقبل میں یہ کام کرسکتی ہوں۔ جلد اپنے والد کے وہ گانے اور قوالیاں لانچ کر وں گی جنہیں ابھی تک ریلیز نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں