ساہیوال آرٹس کونسل کانیلی بار کلچرل شو — اختر سردار چودھری

اختر سردار چودھری

پنجاب کی ثقافت صحرائی ، میدانی اور پوٹھو ہاری ثقافتوں کا حسین مجموعہ ہے ۔خوبصورت رنگوں سے آراستہ پنجاب کی یہ ثقافت ہماری پہچان اور شناخت کا باعث ہے۔پنجاب کونسل آف دی آرٹس نے پنجاب بھر کے تمام ڈویژن کی ثقافتوں کو لاہور جیسے تاریخی شہر میں متعارف کروانے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔اسی سلسلہ کے تحت ساہیوال آرٹس کونسل نے پنجاب کونسل آف دی آرٹس کی سرپرستی میں باغ جناح اوپن ائیر تھیٹر لاہور میں،نیلی بار کلچرل شو،کے ذریعے میدانی ثقافت کے رنگ بکھیرے۔نیلی بار کلچر ل شو میں ہڑپائی ثقافت ،صوفیانہ کلچر اورراوی کلچرکے مختلف رنگ پیش کئے گئے ۔

ساہیوال آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے خطہ ساہیوال کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال کے لوگ ہڑپہ جیسی عظیم تہذیب کے وارث اور بابا فرید کی دھرتی کے سپوت ہیں۔ اس علاقے میں راوی کلچر اپنا الگ سے خوبصورت رنگ بکھیرتا ہے۔ساہیوال کے ساتھ بڑے بڑے ادیبوں،شاعروں اور فنکاروں کا تعلق رہا ہے۔جدید نثری نظم کے بانی معروف شاعرمجید امجد اور منیر نیازی نے اسی شہر میں قیام کیا اوراپنی اپنی تخلیق کا لوہا منوایا۔ شہنشائے غزل مہدی حسن ، معروف کمپئیر طارق عزیز اور دلدار حسین بھٹی کا منٹگمری کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ یوں ادبی وثقافتی اعتبار سے ساہیوال ڈویژن منفرد اہمیت کا حامل ہے۔

نیلی بار کلچرل شو کے لیے انتہائی خوبصورت سیٹ لگایا گیا جو ساہیوال ڈویژن کی ثقافت کی عکاسی کر رہا تھا ۔پروگرام کی نظامت اوکاڑا سے تعلق رکھنے والے معروف ٹی وی اینکر ریاض خان نے کی ۔ تقریب کے آغاز میں ہی بابر علی جھومری کی ٹیم نے راوی رقص پیش کر کے لو گوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ عبد الرحمن بانسری نواز نے منجھلی والٹریاکی دھن پر بانسری بجا کر حاضرین پر سحر طاری کیا۔ پاکپتن سے تعلق رکھنے والے ڈانڈیا گروپ نے مختلف انداز میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے زندہ دلان لاہور کے دل جیت لیے۔ہیر گائیکی میں سدرہ اشتیاق نے پیر وارث شاہ کی ہیراور کلام باہو سناکر لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔لوک گائیکی میں میڈم شازیہ ماروی اور نوید خان نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔

اسی طرح فوک گائیکی میں سکندر لوہار اور سارہ جٹی نے ڈھول اور چمٹہ پراپنی پرفارمنس سے پنجاب کے مایہ نازفوک گلو کار عالم لوہار اور بالی جٹی کی وہ شاندار جوڑی کی یا د تاز ہ کردی ۔آخر میں بابا فرید کے شہر پاکپتن سے تعلق رکھنے والے شہنشاہِ قوالی شیر میاندادنے قوالی میڈلے پیش کر کے پروگرام کی رونق کو دوبالا کر دیا۔اس موقع پر ازبکستان اور ایران سے آئے ہوئے غیرملکی مہمانوں نے فنکاروں کو دل کھول کر خراج پیش کیااور انہوں نے شو میں لگائے دستکاری اور ہڑپہ سے متعلق اسٹالز کو دلچسپی سے دیکھا۔

پروگرام کے اختتام پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب کونسل آف دی آرٹس محترمہ ثمن رائے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ان پروگراموں کا بنیادی مقصد پنجاب میں ثقافتی ہم آہنگی اور سانجھ پیدا کرنا اور صوبہ بھر کے علاقائی فنکاروں کو لاہور جیسے عظیم تاریخی و ثقافتی شہرمیںاپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے جس سے نہ صرف ان فنکاروںکی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ ان میں بطورفنکار احساس برتری اجاگر ہو گا جو انہیں بڑا آرٹسٹ بننے میں مدد دے گا۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب کونسل آف دی آرٹس محترمہ ثمن رائے نے حاضرین کے چہروں پر رونق دیکھ کر ساہیوال آرٹس کونسل کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس کامیاب پروگرام پر خوشی کا اظہار کیا اور آئندہ بھی پنجاب کی ثقافت کو ترویج و ترقی دینے والے ایسے ہی ثقافتی پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں