وہ دعا جس سےزمین کے برابر سونے کا قرض بھی ادا ہوسکتا ہے

علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک دفعہ نمازِ جمعہ میں شریک نہ ہو سکا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے نے وجہ دریافت فرمائی تو میں عرض گزار ہوا کہ میں نے یوحنا بن باریا ییہودی کا کچھ قرض دینا تھا وہ میرے دروازہ پر تاڑ لگائے بیٹھا تھا کہ میں باہر نکلوں اور وہ مجھے اپنی حراست میں لے لے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے روک لے۔ اس لیے میں بباہر نہ نکل سکا اور جمعہ کی نماز میں شرکت سے محروم رہا۔ حضور نبی ِ کریم رؤف الرحیم ﷺ نے فرمایا کہااے معاذ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کیا تم پسندکرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا قرض ادا فرمائے؟ میں نے عرض کی ۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! تو نبی معظم شفیع دو عالم ﷺ نے فرمایا ہر روز پڑھا کرو.
علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک دفعہ نمازِ جمعہ میں شریک نہ ہو سکا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے نے وجہ دریافت فرمائی تو میں رعض گزار ہوا کہ میں نے یوحنا بن باریا ییہودی کا کچھ قرض دینا تھا وہ میرے دروازہ پر تاڑ لگائے بیٹھا تھا کہ میں باہر نکلوں اور وہ مجھے اپنی حراست میں لے لے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے روک لے۔ اس لیے میں بباہر نہ نکل سکا اور جمعہ کی نماز میں شرکت سے محروم رہا۔ حضور نبی ِ کریم رؤف الرحیم ﷺ نے فرمایا کہااے معاذ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کیا تم پسندکرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا قرض ادا فرمائے؟ میں نے عرض کی ۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! تو نبی معظم شفیع دو عالم ﷺ نے فرمایا ہر روز پڑھا کرو
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ {26}تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ {27}
رَحمٰنَ الدُّنْیَا وَ اْالآخِرَۃِوَ رَحِیْمَھُمَا تُعْطِیْ مِنْھُمَا مَنْ تَشَائُ وَ تَمْنَعُ مِنْھُمَامَنْ تَشَائُ اِقْضِ عَنِّیْ دَیْنِیْ۔
اگر تجھ پر زمین کے برابر سونا قرض ہو گا اللہ تعالیٰ ادا فرمائے گا۔ ( خواجہ ابو نعیم الحافظ)

اپنا تبصرہ بھیجیں