گردشی قرضوں میں اضافہ ناقص حکومتی پالیسیز کا نتیجہ ہے: رانا زاہد فاروق

ساہیوال(بیورورپورٹ)متحدہ مجلس عمل تحصیل ساہیوال کے صدر اور امیرجماعت اسلامی پی پی 198ساہیوال رانا زاہد فاروق نے کہاہے کہ سینٹ کمیٹی میں گردشی قرضے573ارب روپے ہونے کا انکشاف لمحہ فکریہ ہے اس سے حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسیوں کااندازہ ہوتاہے۔حکمرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔لوگوں کو دووقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ملک کی40فیصد آبادی سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے قوم پرقرضوں کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے کامقروض ہے۔عوام کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز پی پی 198ساہیوا ل کے دفتر میں مختلف عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ حکمران اللہ اور اس کے رسولؐ کے نظام کے تابع داخلہ وخارجہ پالسی مرتب کریں۔غیر ملکی دباؤ پر بننے والی پالیسیاں غلامی کی زنجیرہیں۔وقت کاناگزیر تقاضا ہے کہ عالمی اداروں کی غلامی سے نجات حاصل کی جائے۔اللہ اوراس کے رسولؐ کو راضی کرنے کیلئے سودی نظام کاخاتمہ کیاجائے۔اس نظام نے ملک وقوم کوغیروں کا محتاج بنادیا ہے جس سے دشمن قوتوں کے حوصلے میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت کی جانب سے6900کروڑرپے سے زائدکے دفاعی سامان خریدنے کااعلان تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔اس سے جنوبی ایشیا میں طاقت کاتوازن خراب ہوگا۔بھارتی حکمران علاقائی سلامتی اور امن وامان کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جدیداسلحے کو ذخیرہ کرنے کی ڈور شروع ہوچکی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں