میری نظر سے۔۔۔بنت سعید

(بنت سعید کا اصل نام مقدس سعید ہے، ایم فل ایجوکیشن کی طالبہ ہیں، لکھنے کا شوق رکھتی ہیں اور ساہیوال اپ ڈیٹس کی باقاعدہ وزیٹر ہیں، ان ی یہ تحریر کسی بھی ویب سائیٹ کے لیے پہلی تحریر ہے)
میں گھر والوں کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی ہوں۔اس لاڈ پیار کا ہی نتیجہ ہے کہ میں اپنی بہت سی جائز اور ناجائز خواہشات زبردستی منوا لیتی ہوں۔انسان کو شعور وقت اور تجربے کے ساتھ حا صل ہوتا ہے۔شاید اسی لیے گھر والے اکثرہماری بات مان لیتے ہیں کہ آہستہ آہستہ وقت گزرنےکے ساتھ سمجھ جائیں گے۔یہ تین سال پہلے کا ذکر ہےکہ میں جس ادارے میں پڑھتی تھی وہاں لڑکیاں طرح طرح کی تقریبات میں شرکت کرتی تھیں۔کچھ لڑکیاں اپنی مدد آپ کے تحت یونیورسٹی سے باہر کے ایونٹس میں بھی شرکت کرتی تھیں ۔لوئر مڈل کلاس سے ہونے کی وجہ سے مجھے ایسے ایونٹس میں شرکت کے لئے گھر والوں کی اجازت درکار تھی۔ ایک دن میں نے ایک محفل موسیقی میں جانے کی اجازت کے لیے بھائی کو فون کیا اتنا اندازہ تو تھا ہی کہ والد صاحب سے اس کی اجازت ملنا مشکل ہے، اور بھائی نئے زمانے سےواقف ہیں تو وہ یقینا والد صاحب کو راٖضی کر لیں گے۔بہت تگ و دو کے ساتھ بھائی نےیہ کہہ کے فون بند کر دیا کہ دیکھ لو اگر راستے میں جاتے ہوئے مر گئی تو خدا کو کیا منہ دکھاؤ گی۔تب تو میری یا ابو کی اجازت کسی گواہی کے کام نہیں آئے گی۔ تم ایک خود مختار ، آزاد اور با علم انسان ہو جس کو شر اور خیر کا بخوبی علم ہےاور تم اپنے اعمال کی خود جوابدہ ہو۔
اس واقعہ نےمجھے یہ سوچنے پہ مجبور کیاکہ ہر انسان جانتا ہے کہ موت اٹل ہے۔ہر انسان کو اس کا مزہ چکھنا ہے اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ موت نے کسی کو کبھی مہلت نہیں دی۔موت نہیں دیکھتی کہ اس انسان کے مرنے سے اس کے بوڑھے ماں باپ کا خیال کون رکھے گا، کوئی گھر کا اکلوتا کماؤ پوت ہے تو اس کے بعد اس کی بہنوں کے سر پہ ہا تھ کون رکھے گا،کسی ماں کے مرنے پہ اس کے بچوں کی تربیت کون کرے گا ان کو زمانے کی تلخیوں سے کون بچائے گا۔ہم جانے انجانے میں بے شما ر گناہ کر جاتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔اگر کبھی یہ احساس ہو بھی جائے تو اپنی تسلی کے لئے سوچ لیتے ہیں کہ بعد میں معافی مانگ لی جائے گی۔شیطان کا بہکاوا ہے کہ مزے کا یہی ایک لمحہ ہے اورمعافی کے لیے ساری زندگی پڑی ہےیوں انسان سے بہت سے گناہ سرزد کرواتا ہے۔لیکن ضرورت یہ سوچنے کی ہے کہ اگر مزے کا لمحہ واپس نہیں آتا تو معافی اور توبہ کا بھی کوئی لمحہ واپس نہیں آتا پھر بھی اللہ تعالیٰ انسان کو ایسے موقع بار بار فراہم کرتا ہے کہ بندہ اس کی جانب لوٹ جائے۔اس لیے ہر حالت میں اپنے رب سے معافی کےطلبگار رہنا چاہیے ، نہیں معلوم کون سی گھڑی ہماری معافی قبولیت اختیار کر جائے اور وہی ہماری آخری گھڑی ہو۔خدا آپکو اور مجھے گناہ کرنے اور گناہ پھیلانے سے محفوظ رکھے ، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں