پاکستانی سیاستدان اور مسئلہ کشمیر(مراسلہ:احمد رضا، میر پور آزاد کشمیر)

پاکستانی سیاستدان کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں کتنے سنجیدہ ہیں؟ آج تک کسی بھی فورم پر کشمیر کا کوئی نمائندہ پاکستانکی جانب سے نہیں بھیجا گیا. کشمیریوں کو تو حکومتی اختیارات بھی مکمل طور ر حاصل نہیں۔کیا ہم اتنے نااہل ھیں کے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین کشمیری کے بجائے کسی ایسے بندے کو بنایا جاتا ہے جس کو پتا بھی نہیں ھوتا کہ میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہوں اور میری ذمہ داری کیا ہے؟سوچیں مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کاز پر کتنا کام کیا؟کیا نتائج حاصل کیے خداراکشمیر کمیٹی کا چیئرمین کشمیر کا کوئی بندہ مقرر کریں اور وہ بااختیار ہو تاکہ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جاسکے ۔
آئی جی کشمیر بھی کشمیر سے ھونا چاہیے جو کہ ھمارا حق ہے ۔چیف سیکریٹری کی ھمارے وزیراعظم کے ماتحت ھو نا کہ ھمارا وزیراعظم چیف سیکریٹری کے۔ہمیں جو ادھوری آزادی میسر ھے وہ ھمیں مکمل فراہم کی جائے. ہم آزاد قوم ہیں اور کشمیری قوم میں اتنا ٹیلنٹ ھے۔اگرہمارا صدر مسعود خان دنیا میں پاکستان کی سفارت کاری کر سکتا ہے تو مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں