فیصل آباد کا رکشہ ڈرائیور 14 کتابوں کا مصنف ناول نگار

فیصل آباد (ویب ڈیسک)فیصل آباد کا رکشہ ڈرائیور فیاض ماہی 14کتابوں کا مصنف جو اب تک سوسے زائد سٹیج ڈرامے بھی لکھ چکا ہے دو مرلے کے کرائے کے گھر میں کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ، ریاست کے دوہرے معیار پرسوالیہ نشان ہے ۔ مطابق فیصل آباد کی گلیوں اور بازار وں میں سارا دن محنت مزدوری کرنیوالے رکشہ ڈرائیور فیاض ماہی ایک غیر معمولی مصنف اور ناول نگار بھی ہیں فیاض ماہی اب تک 14ناول لکھ چکے ہیں جبکہ سو سے زائد سٹیج ڈراموں کا کریڈٹ بھی ان کے نام پر موجود ہے .فیاض ماہی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض ماہی نے کہا کہ میر ی چار بیٹیاں ہیں جن میں دو سونے کی جگہ کم ہونے کی وجہ سے اپنے ماموں کے گھر سونے کیلئے چلی جاتی ہیں جبکہ میں بیمار ہونے کی وجہ سے کئی کئی ماہ بجلی کا بل بھی ادا نہیں کر سکتا۔

ایک رکشہ ڈرائیور جو 14 سے زائد کتابوں کا مصنف ہے 100 سے زائد اسٹیج پلے لکھ چکا ہے

ایک رکشہ ڈرائیور جو 14 سے زائد کتابوں کا مصنف ہے 100 سے زائد اسٹیج پلے لکھ چکا ہے۔ مڈل پاس ہے کیونکہ غربت کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ بہت سے اخبارات میں کالم لکھتا ہے۔ اس شخص کے مطابق لکھنا اس کا جنون ہے۔ رکشہ چلانا اس کی محنت ہے اور حلال و محنت کی کماتا ہے

Posted by Dunya News on Monday, 21 May 2018

فیاض ماہی کا کہنا تھا کہ مجھے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب کرایہ وقت پر نہ دینے کی وجہ سے مالک مکان مجھے سامان اٹھا کر چلتا ہونے کیلئے کہہ دے گا ۔ فیاض ماہی نے انکشاف کیا کہ میں وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کے ساتھ پل کر جوان ہوا ہوں ہم 16سال تک اکٹھے کرکٹ کھیلتے رہے ہیںاور میں عابد شیر علی کا کلاس فیلو اور محلے دار بھی رہ چکا ہوں لیکن اب عابد شیر علی نے کئی بار رجوع کرنے پر بھی میری جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔ انہوں نے بتایا کہ میری کتابوں پر ایک یونیورسٹی میں تحقیقی مقالہ بھی لکھا جارہا ہے لیکن افسو س کہ حکومت کی جانب سے میر ی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور میں بیماری کی حالت میں بھی مشقت طلب کام کرنے پر مجبور ہوں۔فیاض ماہی نے میڈیا کے توسط سے حکومت سے اپیل کی کہ اس کو کوئی چھوٹا سا گھر دیدیا جائے تاکہ اس کی بیٹیاں محسوس کر سکیں کہ ان کی بھی کوئی اپنی چھت موجود ہے ۔فیاض ماہی کی کہانی معاشرتی المیہ تو ہے ہی دوسری طرف اس نظام پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے جہاں ایک جاہل وزارت کے مزے لوٹتا ہے تو ایک صاحب کتاب کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں