راجہ طارق محمود ڈی ای او جھنگ (مراسلہ: فیصل عمران)

سنا ہے اُسے سُخن کے اصول آتے ہیں
کرے کلام تو باتوں سے پھول آتے ہیں

ایک پرکشش شخصیت کے حامل محترم جناب راجہ طارق محمود صاحب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسرایلیمنٹری ایجوکیشن میل ڈسٹرکٹ جھنگ
انتہائی شفیق افیسر کہ جس کے آفس کا دروازہ ہمیشہ اساتذہ کرام کے لیے کُھلا رہتا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی ٹیچر اپنا مسئلہ لے کر حاضرخدمت ہوا ہو اور شفیق مکرم راجہ صاحب نے اس ٹیچر کو مایوس کیا ہو۔ راقم نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ موصوف جتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں ٹیچرز کے مسائل کو حل کرنا انکی اولین ترجیح ہے۔
اتنے اہم عہدے پر براجمان ہونے کے باوجود عاجزی و انکساری موصوف کا طرہ امتیاز ہے۔ انداز تکلم اتنا دھیمہ اور شیریں کہ پہلی ہی ملاقات میں سائل کی پریشانیاں ختم۔اور زباں سے بے ساختہ یہی نکلتا ہے۔ “لطف گوئی میں تیری ہمسری ممکن ہی نہیں”
قدرت نے آپ کو قائدانہ صلاحیتوں سے خوب نوازا ہے۔ ہر کام میرٹ پر کرنا اور کسی قسم کا سیاسی دباو قبول نہ کرنا جناب کی بیباکی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر اقبال رحمةاللہ علیہ نے کہا تھا۔ بندہ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے،قوت فرماں روا کے سامنے بیباک ہے
کبھی بھی محترم راجہ صاحب نے سکولوں کا وزٹ ایک افیسر کی حیثیت سے نہیں کیا بلکہ ایک خیر خواہ اور گائیڈ کی حیثیت سے کیا اور جدید طریقہ تدریس اپنانے میں اساتذہ کرام کی راہنمائی کی ہے۔ اساتذہ کرام سے ہمدردی اور انکی لغزشوں سے چشم پوشی راجہ صاحب کی اعلٰی ظرفی کی روشن مثال ہے۔ محترم راجہ طارق محمود صاحب اساتذہ کرام کے لیے میر کارواں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ المختصر

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِکارواں کے لیے

اپنا تبصرہ بھیجیں