ساہیوال: لینڈ ریکارڈ سسٹم ناکام، پٹوار سسٹم رائج ہونے کا خدشہ

ساہیوال (بیورورپورٹ)اراضی ریکارڈ سنٹرکا 15منٹ میں فرد جاری کرنے اور آدھ گھنٹے میں وراثتی انتقال کرنے کا دعویٰ ٹھس ‘ محکمہ دوبارہ مال پٹواری کے پاس منتقل ہونے کاخدشہ ‘اراضی سنٹر پر ٹوکن سسٹم سے سائلین خوا ر‘ ٹوکن سسٹم سنٹر کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ‘لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے ٹوکن سسٹم ختم کرنے کامطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے ورلڈ بنک کے تعاون سے محکمہ مال پٹواری کی کرپشن سے تنگ آکراربوں روپے کی لاگت سے کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرواکر اراضی ریکارڈ سنٹر بنایاجس میں محکمہ مال کا تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرکے شہریوںکو شفاف طریقے سے وراثتی انتقال‘ فرد ‘درستگی نام اور دیگر اہم ضروری کاغذات مہیا ہونے لگے اور لوگوںکے مسائل ترجیحی بنیادوںپرحل ہونے لگے مگر کچھ عرصہ بعد اراضی سنٹر کے سافٹ ویئر تبدیل کرکے ’’ٹوکن سسٹم ‘‘ متعارف کرادیاگیا جس سے سنٹر پر ٹوکن کے حصول کیلئے لمبی لمبی لائنیں لگنے سے شہری گھنٹوں خوار ہونے لگے۔ ٹوکن سسٹم کے اجراء سے لینڈر یکارڈ اتھارٹی کا 15منٹ میں فرد جاری اور آدھ گھنٹے میں وراثتی انتقال کرنے کادعویٰ بھی ٹھس ہوگیا بلکہ عوام دوبارہ محکمہ مال پٹواری کو یاد کرنے لگے ۔ عوامی وسماجی حلقوںکا کہناہے کہ اراضی سنٹر میں ٹوکن سسٹم کاسافٹ ویئر وبال جان بن چکاہے اور ڈی جی لینڈر یکارڈ کی عدم دلچسپی سے سنٹر میں رش بڑھنے سے عوامی مسائل میں اضافہ ہواہے ۔ انہوںنے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیاہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹرمیں ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کرکے سنٹر کو تباہی سے بچایاجائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں