وہ قرض اتارے، جو واجب بھی نہیں‌تھے— ابرار گردیزی

(سید ابرار گردیزی کا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے. اردو ادب کے نامور مصنف ہیں. بچوں کے کئی رسائل کی ادارت کے ساتھ ساتھ کالم نویسی کا شغف بھی رکھتے ہیں. نیلم ویلی میں ساہیوال، فیصل آباد، لاہور اور دیگر علاقوں کے سیاحوں کو بچاتے ہوئے جہاں مقامی افراد نے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کی وہیں ایک مقامی محنت کش بچہ صائم شفاعت بھی سیاحوں کو بچاتے ہوئے نالہ جاگراں کی نذر ہو گیا. زیر نظر کالم اسی بچے کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک کڑی ہے)

صائم شفاعت…تیری جرأ ت کو سلام
وہ قرض چکایا ہے کہ جو واجب بھی نہ تھا

بچپن میں ایک ولندیزی بچے کی کہانی پڑھی تھی جو ٹوٹے پل کو دیکھ کے ریل گاڑی کے سامنے جا کھڑا ہوتا ہے اور اپنی جان دے کر ہزاروں جانیں بچاتا ہے۔
وادئ نیلم کے علاقے کنڈل شاہی کے بارہ سالہ صائم شفاعت کی جرأت کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
دریائے نیلم کنارے، جنت نظیر نیلم ویلی کے ایک گاؤں میں جنم لینے والے معصوم فرشتے صائم شفاعت نے غربت کی آغوش میں آنکھ کھولی۔ صائم کے والد شفاعت سردیوں میں محنت مزدوری کرتے، اور گرمیوں میں جاگراں نالے کے پاس ایک سیاحتی مقام پر پکوڑے بیچا کرتیہیں۔گرمیوں کے آغاز کے ساتھ جب نیلم ویلی میں سیاحوں کی آمد شروع ہوتی تو صائم کے والد کے پکوڑوں کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا جس سے اضافی آمدن تو ملتی ہے لیکن کام کا بوجھ بھی زیادہ ہوجاتاہے۔ انہی ایام میں والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے ننھا صائم بھی متحرک رہتا۔ باپ کی اعانت اوردور دور پتھروں اور نالے کے کنارے بیٹھے ہوئے سیاحوں کو دوڑ دوڑ کر گرما گرم پکوڑے پہچانے میں اسے خاص لطف ملتا تھا۔
یہ 13 مئی2018 ء کا روشن دن تھا، دھوپ چمک رہی تھی۔ اس روز جاگراں نالے کے پاس سیاحوں کی بھیڑ تھی۔ یہ پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے طلبہ و طالبات تھے۔ صائم کے والد کے پکوڑے خوب بک رہے تھے، اکثر سیاح جاگراں نالے کو پیدل عبور کرنے والے پل پر کھڑے ہو کر تصاویر بنوانے کے شائق تھے۔ اسی پل کے کنارے شفاعتنے جہاں پکوڑوں سموسوں کا تشہیری بورڈ آویزاں کر رکھا تھا وہاں پل کے بارے میں انتباہ کیا تھا۔اس بورڈ کو نظر انداز کر کے چالیس سے زیادہ سیاح جب یک بار پْل پر جمع ہوئے تو وہ اْن کا بوجھ برداشت نہ کر سکا۔ آن واحد میں پْل نالے میں جا گرا اور سیاح جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، نالے کے یخ بستہ پانی اور تیز بھاؤ کی نذر ہو گئے۔ وہ چیخ رہے تھے، مدد کے لیے پکار رہے تھے:”ہیلپ ہیلپ۔۔۔پچاؤ۔۔بچاؤ۔“
صائم نالے کے کنارے بیٹھے ایک گروپ کو پکوڑوں کی پلیٹیں دے کر پلٹا ہی تھا کہ اْس نے پْل گرنے اور سیاحوں کی مدد کے لیے فریادیں سْنی۔ اگرچہ وہ ایک کمزور بارہ سالہ بچہ تھا، لیکن پہاڑی اور نالے کے قریب کا باسی ہونے کی وجہ سے زبردست تیراک تھا۔ اْس نے موجوں میں بہتے سیاحوں کو بچانے کے لیے تیز رفتار نالے میں چھلانگ لگا دی۔ ایک سیاح کو وہ فوراً ہی پانی سے باہر کھینچ لایا۔ دوسرے سیاح کو نکالتے ہوئے وہ خاصا تھک چکا تھا۔ لیکن کنارے پر پہنچنے کے بعد اْس نے دیکھا کہ ابھی کئی لوگ پانی کے اندر ڈوب رہے ہیں۔ اْس نے ایک بار پھر چھلانگ لگادی۔ صائم کی کوشش سے اگرچہ ایک دو ہی جانیں بچ سکیں مگر اس کم سنی میں اس نے اپنے دو مہمان سیاحوں کو تندوتیز لہروں سے لڑ کے کنارے پہنچایا۔اسے قرار نہ آیا۔وہ پھر دریا میں کود گیا۔ پکوڑے بیچنے والے غریب دکاندارشفاعت کا یہ کمسن بیٹاصائم…… اب تک واپس نہیں پلٹا۔
مہمان سیاحوں کے لیے جان پر کھیلنے والے اس بچے کی ہمت و جرأت پر شیخ سعدی کا کہا یاد آیا:
”بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال“
(بڑائی اور بزرگی عقل سے ہے مہ و سال سے نہیں)
کنڈل شاہی المیے کی اس ایک گھڑی نے ایک لمحے میں صائم کو اتنا بڑا کر دیا کہ اسے اپنی جان کی پرواہ نہ رہی۔ننھا فرشتہ اْنہیں بچاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا جنہیں وہ جانتا تک نہ تھا۔بہادری، جرات، ایثار اور قربانی کی ایسی مثال پیش کرنا بہت ہی مشکل ہے۔
پوری قوم نے اس بہادر بچے کو خراج عقیدت پیش کیا۔بلاشبہ وہ اس کا حقدار ہے۔حکومت آزاد کشمیر نے شہید صائم کے والد کے لیے دو لاکھ روپے کا بھی اعلان کیا ہے۔
آج ہی نامور صحافی جناب خضر حیات عباسی نے خبر دی ہے کہ وفاقی حکومت صائم شفاعت کی جرأ ت کی قدر کرتے ہوئے ہوئے اسے اعلی ٰ ترین سول ایوارڈ بعد از شہادت سے نوازے گی۔
صائم شفاعت کی جرأت کو سلام۔تم نے وادئ نیلم کی لاج رکھ لی۔تم نے کشمیر کی لاج رکھی۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ جو واجب بھی نہ تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں