وہ 12 سالہ بچہ جو نیلم ویلی کے سیاحوں کو بچاتے ہوئے موت کی نذر ہوا

ساہیوال(خصوصی رپورٹ) نیلم ویلی میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے جب فیصل آباد، ساہیوال اور لاہور کے میڈیکل کالجز کے طلبا و طالبات ڈوبے تو اسی دوران انھیں بچاتے ہوئے مقامی پکوڑہ فروش کا 12 سالہ بچہ صائم شفاعت بھی نالہ جاگراں کی تند و تیز لہروں کی نذر ہو گیا. سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 مئی کو نیلم ویلی میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے 23 سے زائد طلبا و طالبات نالے میں ڈوب گئے تھے.اس دوران جہاں علی میر اور دیگر مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈوبتے طلبا کو بچانے کی کوشش کی وہیں مقامی پکوڑہ فروش کا 12 سالہ محنت کش بچہ صائم شفاعت بھی سیاحوں‌کو بچانے کے لیے نالے میں‌کودا اور ایک سیاح کو بچا لایا.دوسرے کو بچانے کے لیے کودا اور خونی لہروں کی نذر ہو گیا. اس دوران سیاح ڈوبنے والوں‌کی تصویریں بناتے رہے اور یہ بچہ بھی ڈوبنے والوں کے ساتھ ڈوب کر امر ہو گیا. مین سٹریم میڈیا میں اس بچے کی لازوال قربانی کو کوئی خراج تحسین پیش نہیں‌کیا گیا. سوشل میڈیا کے صارفین صائم شفاعت کی لازوال قربانی کو سراہ رہے ہیں.12 سالہ صائم شفاعت دریائے نیلم کے کنارے ، جنت نظیر نیلم ویلی کے علاقے کنڈل شاھی کے قریب ایک گاوں میں پیدا ہوا۔ صائم کا والد شفاعت سردیوں میں محنت مزدوری کرتا، اور گرمیوں میں جاگراں نالے کے پاس ایک سیاحتی مقام پر پکوڑے بیچتا تھا اور صائم اس کی مدد کرتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں